بنگلورو۔22فروری(ایس او نیوز) شمشان میں دفن کی گئی لاش کو 21 دن بعد باہر نکال کر اُس کوغسل دینے اور نماز جنازہ ادا کرکے مسلم قبرستان میں دوبارہ دفن کرنے کی واردت بنگلور میں پیش آئی ہے۔ اس تعلق سے سماجی کارکن صابو لال قریشی کی کوششوں کی ہر کوئی سراہنا کررہا ہے جنہوں نے سرکاری اجازت نامہ کے ساتھ شمشان سے لاش کو باہر نکالا اور مسلم قبرستان میں اسلامی شریعت کے مطابق دوبارہ تدفین کرایا۔
واقعے کے تعلق سے سماجی کارکن جناب صابولال قریشی نے بتایا کہ 25 سالہ مسلم نوجوان گزشتہ ایک ماہ سے لاپتہ تھا، جس کے تعلق سے ٹیانری روڈمیں مقیم اہل خانہ نے پولیس تھانہ میں شکایت درج کرائی تھی، مگر پولس نے نوجوان کا پتہ لگانا تو درکنار، ہبال تالاب میں بازیافت ہونے والی نامعلوم نعش کے تعلق سے بھی اُن کے گھروالوں کو کوئی خبر نہیں دی۔
البتہ پولیس کا کہنا ہے کہ ہبال تالاب سے برآمد ہونے والی نعش کو تین دنوں تک امبیڈکر اسپتال کے مردہ گھر میں رکھا گیا تھا، مگر جب رشتہ دار نہیں ملے تو 21 دن قبل کل پلی کے ہندو شمشان میں اسے سپرد خاک کردیاگیا ۔
ہبال پولیس تھانہ میں جب اس کے بھائی نے لاپتہ بھائی کے کپڑے اور دیگر اشیاء دیکھے تو اس نے تفصیلات حاصل کیں جس کے ذریعے پتہ چلا کہ یہ اس کے لاپتہ ہونے والے بھائی کے کپڑے ہیں، جس کا انتقال ہوچکا ہے اور اُس کی تدفین بھی کردی گئی ہے۔اُسے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پولس نے کس طرح لاپرواہی برتتے ہوئے مسلم نوجوان کی نعش کو شناخت نہ ہونے کی بنیاد پر اسے ہندو شمشان میں سپرد خاک کردیا ہے، جب اس کی اطلاع سماجی کارکن جناب صابو لال قریشی کو ملی تو انہوں نے کافی جدوجہد کے بعد تحصیلدار کی منظوری اور موجودگی میں شمشان سے نعش کو نکالا اور میت کو دوبارہ غسل دینے کے بعد نماز جنازہ ادا کی اور قدوس صاحب قبرستان میں اسلامی شریعت کے مطابق تدفین کرائی۔ انہوں نے بتایا کہ اس نوجوان کے والد کا انتقال ہوچکا ہے، اور گھر میں بے سہارا ماں اور بھائی ہی موجود ہیں۔ نوجوان کی ختنہ بھی ہوئی تھی، مگر پولیس کی لاپرواہی کے سبب یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی حساس معاملات میں محکمہ پولیس کو محتاط رہنا چاہئے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوں۔